XtGem Forum catalog
3 - Copy
الفاظ ہند کامٹیمجلس ادارت مجلس مشاورتفہرستاداریہترسیل زر کا پتہ سرگرمیاںدریچہخبرنامہتازہ شمارہ

  اپریل ٢٠١٥ء حرف ِاوّل

"چھوٹے خواب دیکھنا جرم ہے۔"

 (It's a crime to Dream Small: APJ Abdul Kalam)

ہمارے ملک کے سابق صدر ِ جمہوریہ ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام صاحب نے بہت عمدہ بات کہی ہے جو بظاہر قطرۂ شبنم ہے لیکن  اس پر غور کیا  جائے تو ایک طوفان ہے۔  اس جملہ میں، ایک ایسا طوفان ہے  جو پڑھنے سُننے اور سمجھنے والوں کی منفی سوچ اور بے مطلب اندیشوں کوتہہ و بالا کرسکتا ہے ۔ آج ہماری فکریں صرف اور صرف بنیادی تعلیم تک ہی محدود ہیں۔ ہم تعلیمی نقطہ نظر سے چھوٹے چھوٹے خواب دیکھنے میں مصروف ہیں جبکہ ہماری فکروں کا محور اعلی تعلیم ہونا چاہئے ۔ 

آج دیگر اقوام سے تعلیم کے میدان میں پیچھے رہنا مسلمانوں کے لیے  لمحۂ  فکریہ ہے۔مسلمانوں کی زبو ں حالی کی ایک دو وجوہات ہو ں تو بیان کیا جائے یہاں تومعا ملہ ہی کچھ عجیب ہے ۔ جس طرف نظر اٹھایئے مسائل  کا انبار ہے ۔چندمسلم اداروں کو چھوڑ کر کوئی بھی ایساادارہ نہیں ہے جس میں مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم کا کوئی معقول انتظام ہو ۔ اعلیٰ تعلیم تودور،  بنیادی تعلیم ،جس پر آیندہ زندگی  کا انحصار ہو تا ہے،  اس کے لیے  ہم کتنے سنجیدہ ہیں؟ دوسری قوموں کے تعلیمی معیار کا جائزہ لینے پر ان کی تعلیمی ترقی کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔مسلمانوں میں تعلیمی بیداری اور تعلیمی معیار کی مثال امتحانات کے نتائج ہیں؟ یونین و اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن کے نتیجوں پر نگاہ ڈالی جائے تو دل کانپ جاتا ہے۔  آج دنیا کی ہر قوم تعلیم کی طرف  راغب ہو رہی ہے تو ہماری قوم میں تعلیم کی لیے اتنی کاہلی اور سستی کیوں ہے؟

اللہ تعالی ٰہر بچے کو یکساں ذہنیت اور خوبیوں کے ساتھ پیدا کرتا ہے، لیکن آگے انسان کی مرضی ہوتی ہے کہ اُس کو جس رنگ میں رنگ لے یعنی کہ جس طرح کا ماحول اُسے میسر ہوگا وہ اسی طرح کا ہوگا۔ سیدھی سی بات ہے کہ ہم سب کو اپنے اپنے بچوں کی تعلیم کی فکرخود  کرنی چاہئے ۔  آج قوم کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ضرورت پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے اور آج سے نہیں بلکہ برسوں سے یہ جدوجہد جاری ہے ۔ ٹھیک ہے بہت اچھی بات ہے۔

موجودہ حکومت کی پالیسی  کو کوسنے یا نئی پرانی سیاسی تنظیموں پر اپنی پسماندگی کی ذمہ داری ڈالنی بند کر دینی چاہئے ۔اور ملک کی خارجہ پالیسیوں اور دنیا جہان  کی فکروں کو بس اپنے وطن تک ہی محدود رکھا جائے تو بہتر ہو  گا ۔  ہمارے بچے اعلی تعلیم حاصل کریں اس کے لیے ہم سب کو انفرادی کوششیں ہی کرنی ہیں ،اس کے لیے فی الحال ہمیں ایک پلیٹ فارم پر آنے کی ضرورت نہیں ، کامیابی کے سبھی راستے کھلے ہیں ،  اگر سب اپنے اپنے بچوں کی خود فکر کریں تو ہمیں اس کے نتائج بھی نظر آئیں  گے ۔ کیونکہ کچھ انقلاب چھوٹی چھوٹی اور انفرادی کوششوں سے بھی آتے ہیں ۔ کاش ہم ایسا چھوٹا انقلاب ہی لا سکتے !

ریحان کوثر 

مدیر


شعبۂ فروخت  : اشرف نیوز ایجنسی اینڈ بک ڈپو گجری بازار ،کامٹی٤٤١٠٠١ضلع ناگپور (مہاراشٹر )

ALFAAZ Hind Urdu Monthly Printed & Published by Rehan Kausar,Owned by Vidarbha Minority Multipurpose Rural Development Educational Society (NGO). Published From Kamptee, Nagpur M.S.Printed at Patel Printing Press Kamptee, Nagpur

Email: alfaazkamptee@gmail.com Mob.: 9326669893, 9373216938

http://facebook.com/alfaazehind  http://vmmrdes.jw.lthttp://alfaaz.jw.lt،

MAHURD02415/13/1/2014-TC

Editor : Rehan Kausar


53