3 - Copy
الفاظ ہند کامٹیمجلس ادارت مجلس مشاورتفہرستاداریہترسیل زر کا پتہ سرگرمیاںدریچہخبرنامہتازہ شمارہ

 فروری ٢٠١٥ء  حرف ِاوّل

حضور پاک ﷐نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا توآپ﷐ نے کن کن  لوگوں  پہ خاص توجہ وعنایت فرمائی ؟اسی طرح انبیاء﷣و رسل ﷣اور ہر دور کے مصلحین کی انقلابی پکار پر دوڑ کر آنے والے اوراول صف میں  کھڑے ہونے والے کون تھے ؟بے شک وہ نوجوان ہی تھے اُس دور کے نوجوان ، ایسے نوجوان جن  کی  ہمتیں جوان اور حوصلے بلند تھے  ۔ ان  کی رگوں میں خون بجلی بن کر دوڑتا تھا  اور وہ پہاڑوں سے ٹکرانے کا عزم رکھتے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر انقلاب میں نوجوان طبقے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ نوجوانوں میں کام کرنے کا جذبہ اور انقلاب لانے کی امنگ ہوتی ہے۔ فرعون جیسے ظالم و جابر کے خلاف موسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر ’’لبیک‘‘ کہنے والے چند نوجوان ہی تھے جنہوں نے مصائب کی پرواہ کئے بغیرعلم حق کا پرچم  بلند کیا۔مصلحین نے نوجوانوں کا استعمال  حق و صداقت کی کھیتی کے لیے کھاد کی طرح کیا ۔

ملک و قوم کے مستقبل کا انحصار ملک کے نوجوانوں پر ہوتا ہے۔جس ملک میں جتنے تعمیری صلاحیت کے حامل نوجوان ہوں گے وہ ملک اتنی ہی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوگا ۔ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ملک میں ان کی زیادہ تعداد، افرادی قوت کی بے مثل صورت میں ترقی کے پہیے کو رواں دواں رکھتی ہے۔ نوجوانوں کی تعدادکوملک و قوم کی طاقت کا  پیمانہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ آج ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔اعدادوشمار(٢٠١١ ء)کے مطابق کل آباد ی ۱۲۵؍کروڑ کا ۶۵؍فیصد حصہ ۳۵؍سال یا اس سے کم عمر والے افراد اور کل آبادی کا ۵۵؍فیصد حصہ ۲۵؍سال سے کم عمر کے جوشیلے، پرعزم اور حوصلہ مند نوجوانوں کا ہے۔ اس وقت نوجوان توانائی کے اعتبار سے ہندوستان کا رتبہ چین سے بھی بڑا ہے اور نوجوان نسل کے خزانے کے معاملے میں دنیا کے دوسرے ممالک سے کہیں آگے ہے۔

لیکن  تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ  دنیا کےبہت سے قیمتی  خزانوں کو لوٹا گیاہے ،کبھی تیرتلواروں کے زور پر اور  کبھی مختلف قسم کے فریب اور جعلسازی کے پردوں میں۔ ہمارے اس موجودہ خزانے کو دھیرے دھیرے لوٹا جا رہا ہے ۔ اس بار فریب سوشل میڈیا کیشکل میں سامنے آ چکا ہے مگر اس کی ظاہری صورت بہت خوش نما نظر آتی ہے۔

اسرائیل کی "کوکھ" سے جنما سوشل میڈیا انھیں تفریح کے ساتھ جدیدیت کے نام پر اور بھی بہت کچھ سکھا رہا ہے۔نوجوان  وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ خواب دیکھتا ہے اور ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کوشش کرتاہے۔ سوشل میڈیا ان نوجوانوں کو خواب دکھانے سے لے کر انہیں نکھارنے بنانے،سنوارنے اوران کے خوابوں کو تکمیل تک پہنچانے کے 'جھوٹے خواب' دکھا رہاہے۔ افسوس آج اس فریب کا جال بچھانے والوں میں ملک کے بھی لوگ شامل ہیں جو ان خزانوں کو لوٹ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا نے مارسل میکلوہان کی اس پیش گوئی  کو پوری طرح  سچ کر دکھایا  کہ پوری دنیا ایک گاؤں میں تبدیل ہو جائے گی۔انسانوں کے بولنے کا انداز بدل جائے گا اور عمل و رد عمل بھی۔ سوشل میڈیائی ذرائع کے نوجوان طبقے پر پڑنے والے اثرات کی باتیں کریں تو ہر ایک ذریعہ کی طرح اس کے بھی دو پہلو دکھائی دیتے ہیں، مثبت اورمنفی۔مگراہم  سوال یہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ذرائع کے کس پہلو سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ مثبت پہلو یا منفی ۔یہ بات الگ ہے کہ سوشل میڈیا ذرائع کی بدولت آج کا نوجوان طبقہ اپنی خواہشات کی تکمیل کر رہا ہے۔لیکن وہ خواہشات کیسی ہیں ؟ ان کا معیار کیا ہے ؟ اس کا بھی پتہ لگانا ضروری ہے۔سب سے  زیادہ ضروری اور اہم سوال یہ ہے کہ وہ کون ہے جو سوشل میڈیا کی نگرانی کر رہا ہے ؟ اس پر نہ سرکاری محکموں کی نظر ہے نہ ہی والدین کو ان سب کی کوئی فکر ہے ۔

سوشل میڈیا سے دو نہریں رواں ہیں ایک غلیظ اور دوسری بظاہر صاف و شفاف ۔ پہلی نہر  میں وہ نوجوان غوطہ لگا رہے ہیں جو اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل چاہتےہیں۔ ان نوجوانوں پر انفرادی اثرات حاوی  ہوتے ہیں۔ زیادہ خطرناک وہ ہیں جو دوسری نہر میں غوطہ لگانے کی بجائے ڈوبتے جا رہے ہیں ۔ کچھ سیاسی اور مذہبی تنظیمیں  ان نوجوانوں کا استعمال زہر بانٹنے کے لیے کر رہی ہے جس کے اثرات بہت گہرے دکھائی  دے رہے ہیں  ۔

ابھی ابتدا  ہے ،تو سب ٹھیک اور درست لگ رہا ہے  لیکن کوئی یہ نہیں سوچ رہا ہے کہ ملک کا  ٥٥ فی صد حصہ کہاں اور کس طرف جا رہا ہے ؟سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو جنسی تشدد،لڑائی جھگڑے ،برائی اور سماج کو اخلاقی اور ثقافتی زوال کی جانب گامزن کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب سوال  یہ ہے کہہمارا سماج اور ہماری حکومت  نوجوان توانائی کے  اس خزانے کی حفاظت کیسےکرے گی اور اس کے لیے کیا لائحۂ عمل اختیار کیا جائے گا ؟

ریحان کوثر  


شعبۂ فروخت  : اشرف نیوز ایجنسی اینڈ بک ڈپو گجری بازار ،کامٹی٤٤١٠٠١ضلع ناگپور (مہاراشٹر )

ALFAAZ Hind Urdu Monthly Printed & Published by Rehan Kausar,Owned by Vidarbha Minority Multipurpose Rural Development Educational Society (NGO). Published From Kamptee, Nagpur M.S.Printed at Patel Printing Press Kamptee, Nagpur

Email: alfaazkamptee@gmail.com Mob.: 9326669893, 9373216938

http://facebook.com/alfaazehind  http://vmmrdes.jw.lthttp://alfaaz.jw.lt،

MAHURD02415/13/1/2014-TC

Editor : Rehan Kausar


54

Polaroid