XtGem Forum catalog
3 - Copy
الفاظ ہند کامٹیمجلس ادارت مجلس مشاورتفہرستاداریہترسیل زر کا پتہ سرگرمیاںدریچہخبرنامہتازہ شمارہ

آج سے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل جبکہ دنیا میں شرک و بت پرستی عام تھی۔ انسان مالک حقیقی کو چھوڑ کر اپنے ہی جیسے انسانوں کو معبود بنائے  ہوئے تھا ۔سر زمین عراق کا وہ قصبہ جو 'اوُر 'کے نام سے موسوم تھا اس علاقہ میں حضرت ابراہیمؑکی پیدائش ہوئی ۔جو رہتی دنیا تک کے لئے انسانی تاریخ پر اپنا ایک مستقل نشان چھوڑ گئے ۔ جس قوم میں انھوں نے آنکھیں کھولیں وہ ستارہ پرست قوم تھی ۔ چاند ،سورج اور دوسرے ستاروں کو خدا کا درجہ دیا ہوا تھا ۔اور شاہی خاندان بز عمِ خود ان ہی خداؤں کی اولاد ہونے کی حیثیت سے اہل ملک کا خدا مانا جاتا تھا ۔ جس خاندان میں پیدا ہوئے وہ بت فروشوں بلکہ بت سازوں کا خاندان تھا ۔

  ایسے نازک جہالت میں جبکہ بظاہر کوئی ایسی روشنی  دنیا میں موجود نہ تھی جو صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کرے ۔ دنیا کی عام روش پر چلنے والا کوئی عام انسان ہوتا تو وہ بھی اسی راستہ پر جاتا جس پر اس کے خاندان کے لوگ ، ملک و قوم اور شاہی خاندان کے افراد جا رہے تھے ۔ لیکن حضرت ابراہیمؑ ان انسانوں میں نہ تھے جو بے شعور خس و خاشاک کی طرح ہوا کے رخ پر اڑنے لگتے ہیں ۔انھوں نے ببانگِ دہل اعلان کیا کہ اے اہل زمانہ ! تم نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ تمہارے مرتبہ کے شایان شان نہیں ہے ۔تم اشرف

المخلوقات ہوتے ہوئے بت سازی اور بت پرستی میں مشغول ہو ۔جو تم کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ، بلکہ وہ ہر وقت تمہارے ہی محتاج رہتے ہیں ، ان پر ایک مکھی بیٹھ جائے تو اس کو اڑانے  کی طاقت بھی جس معبود میں نہ وہ بلا شک باطل ہے اور تمہارے منصب عظیم پر کلنک ہے ۔ حضرت ابراہیم  علیہ السلام صرف ایک ماحول ، قوم اور معاشرہ کے باغی نہیں تھے بلکہ وہ اس زمانے کے بھی باغی تھے جو اپنا حقیقی راستہ بدل کر وسائل کی راہ پر گامزن تھا ، اور اسی کو اپنی معراج اور صحیح کامیابی کا راستہ سمجھ رہا تھا ۔

حضرت ابراہیمؐ  نے ہزاروں سال پہلے جن خود ساختہ معبود وں اورخانہ ساز اصولوں کو توڑا تھا آج دنیا بھر ان ہی  معبود وں اور ان ہی اصولوں کی پیروی کر رہی ہے۔تاریخ نے گویا اپنے آپ کو دہرایا ، اور آزر کی صنعت کو آج پھر فروغ حاصل ہوا ہے کارسازِ حقیقی سے بے تعلق اور فنا ہو جانے والے اسباب پر کامل توکل و بھروسہ آج کی دنیا کا اصول بن چکا ہے ۔

یہ آزری فتنہ جب بھی دنیا میں فروغ پا ئے گا ، اور وہ محدود و تنگ ماحول جہاں بھی قائم ہو گا وہی لعنتیں اس کے ساتھ آئیں گی ۔معیار بدل جائے گا ۔ ذہنی توازن متغیر ہو جائے گا ۔گناہوں ، لذتوں اور شہواتِ نفس کواخلاقی قدروں اور فیشن کا نام دیدیا جائے گا۔ برے اصولوں اور فطرت سے بغاوت کو فن اور خدمت کا لباس پہنا دیا جائے گا ۔ اور انسان نہ صرف انسانوں کے آگے جھکنے لگے گا ،بلکہ وہ گناہوں کی عبادت ، نفس کی پرستش اور رذالت و کمینگی کو فروغ دینے کے لئے اپنے سارے امکانات صرف کردینے کی پیہم کوشش میں لگ جائے گا اور انسانیت دم توڑتی نظر آئے گی ۔

  فتنۂ آزری آج سے ہزار ہا سال پہلے پیدا ہوا تھا ۔ لیکن آج پھر وہ تازہ دم ہے ۔ اور ساری دنیا کو اپنے تیز رو سیلاب کی زد میں لے چکا ہے ۔ اگر پہلے ایک آزر  تھا تو آج ہزاروں لاکھوں آزر پیدا ہو چکے ہیں ۔ اگر اس آزر نے سنگسار کر دینے کی دھمکی دی تھی تو آج کے آزر لاکھوں ابرہیموں کو گولیوں کا نشانہ بنا چکے ہیں ۔ آج ان کا خون پانی سے زیادہ سستا بن چکا ہے ۔

  پورے ہجری سال میں سب سے زیادہ ابرہیمی یاد  گاروں کا جو زمانہ ہے وہ یہی ذوالحجہ کا مہینہ ہے ۔ جس میں حضرت ابراہیمؑ کی متعدد یادگاروں اور مختلف آزمائشوں کو ہم یاد کرتے ہیں ، اور اس کی اتباع  میں ہم بھی خدائے  واحد کے حضور اپنی معمولی قربانی پیش کرتے ہیں ۔ بلا شبہ ہماری قربانیاں ،صفا و مروہ کے درمیان ہماری  سعی ،رمئ جمرات اور اس گھر کا طواف جس کو  حضرت ابراہیمؑ نے اپنے مقدس ہاتھوں سے تعمیر کیا تھا۔ یہ سب کچھ بہت ضروری ، اور ان کو انجام دینے والا خوش قسمت اور باعث صد مبارک ہے اور ان سے انکار کرنے والا قابلِ عتاب و ملامت بلکہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔

  لیکن اس اعتراف کے باوجود یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ محض رسمی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی کر لینا اور ان کی یادگاروں میں شریک ہو لینا اور سال میں عید الاضحیٰ کے موقع پر جانور 

کی قربانی دیدینا کافی نہیں ، اور نہ اس سے اس طوفان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے جس کا مقابلہ حضرت ابراہیمؑؑنے اپنے زمانے میں کیا تھا ۔

اس وقت دنیا مادیت کے سامنے اس طرح سر بسجود اور اسباب و وسائل کی پرستی میں اس طرح مشغول و  منہمک  ہے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں تھی ۔بلکہ آج اس مادیت کا دھارا پہلے سے تیز ہے ۔ پہلے مٹی اور پتھر کے بت پوجے جاتے تھے ۔ لیکن آج سونے چاندی کے بت ، تہذیب و تمدن کے بت اور قومیت و وطنیت کی پرستش میں دنیا پوری طرح ڈوبی ہوئی ہے ، اور مختلف ناموں سے نفس کی پرستش میں لوگ مصروف ہیں اور آرٹ کے نام سے نفس کی پوجا ہو رہی ہے تو کبھی خدمت  اور ترقی کے نام سے بت پوجے جا رہے ہیں ۔

پیرؤوں اور متبعین کے اور کون ہو سکتا ہے جو اس مہم کو انجام دے ، اور ابراہیمی سنت کو پھر سے زندہ کر کے انسانیت کا خراج حاصل کرے اور اس سسکتی و دم توڑتی انسانیت کے اندر نئی روح پھونک سکے ۔ہم ہر سال عید الاضحیٰ کے مبارک موقع پر جو قربانی کرتے ہیں اسکی روح یہ ہی ہے کہ آدمی اپنے ارادہ ، اپنی خواہش ،اپنی عادت اور اپنے مزاج کے گلے پر چھری پھیرے ۔اپنے جی کے کہنے پر نہیں بلکہ الله و رسول کے کہنے پر چلنے کا فیصلہ کرے اور زندگی کے ہر موڑ پر الله سے ڈر اور آخرت میں جوابدہی کے خیال سے برائی سے اپنا ہاتھ روک لے اور دل پر پتھر رکھ کر اس سے باز رہے ۔ جو کوئی ناجائز آواز خواہ وہ کتنی ہی میٹھی اور رسیلی ہو ، محض اس لئے نہ سنے کہ الله تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ کوئی غلط چیز خواہ وہ بار بار اس کے سامنےآ ئے ، محض اس لئےاس سے نگاہ پھیرے کہ یہ حکمِ الہیٰ کی خلاف ورزی ہے ، جو دوستوں کی محفل سے اپنی ساری دلچسپی کے باوجود محض اس لئے اٹھ آئے کہ اس میں غیبت عیب جوئی اور حرام کاری ہو رہی ہے ۔ جو اپنے گھر والوں کے غلط اور ناجائز مطالبات ان کے ساتھ اپنی محبت اور تعلق کے باوجود محض اس لئے رد کر دے کہ اس میں احکام شریعت سے سرتابی اور معصیت کا ارتکاب ہے ۔اپنے والدین، بھائیوں اور قریب ترین عزیزوں کے خلاف ، ان کی مروّت اور شرم کے باوجود ، صاف صاف گواہی دے کہ الله تعالیٰ کا حکم یہی ہے۔

  قربانی کا یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر الله تعالیٰ کے کچھ بندوں نے پوری انسانیت کی قسمت بدل دی تھی ، وحدۂ لا شریک لۂ کی نصرت کے حصول کے لئے آج بھی یہی راستہ ہے ۔جو مسلم و غیر مسلم ہر قسم کی حکومت میں مسلمانوں کے لئے کھلا ہوا ہے ۔ اس لئے اس میں اکثریت و اقلیت اور آزادی و مجبوری کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔

مفتی محمداحتشام  الرشید ،ملیؔ

مدرس،سراج العلوم ،ڈاکٹر شیخ بنکر کالونی ،کامٹی  09860936509

(مہمان اداریہ )

٭٭٭


شعبۂ فروخت  : اشرف نیوز ایجنسی اینڈ بک ڈپو گجری بازار ،کامٹی٤٤١٠٠١ضلع ناگپور (مہاراشٹر )

ALFAAZ Hind Urdu Monthly Printed & Published by Rehan Kausar,Owned by Vidarbha Minority Multipurpose Rural Development Educational Society (NGO). Published From Kamptee, Nagpur M.S.Printed at Patel Printing Press Kamptee, Nagpur

Email: alfaazkamptee@gmail.com Mob.: 9326669893, 9373216938

http://facebook.com/alfaazehind  http://vmmrdes.jw.lthttp://alfaaz.jw.lt،

MAHURD02415/13/1/2014-TC

Editor : Rehan Kausar


41